انوکھا انتقام

*🌹انوکھا انتقام🌹* حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ النصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جسے سن کر لوگ بہت روئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے لوگو میں کیسا نبی ہوں؟ اس پر ان لوگوں نے کہا اللہ آپ کو جزا دے۔ آپ سب سے بہترین نبی ہیں۔ آپ ہمارے لئے رحیم باپ کی طرح اور شفیق اور نصیحت کرنے والے بھائی کی طرح ہیں۔ آپ نے ہم تک اللہ کے پیغام پہنچائے اور اس کی وحی پہنچائی اور حکمت اور اچھی نصیحت سے ہمیں اپنے رب کے راستے کی طرف بلایا۔ پس اللہ آپ کو بہترین جزا دے جو وہ اپنے انبیاء کو دیتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ! مَیں تمہیں اللہ کی اور تم پر اپنے حق کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو وہ کھڑا ہو اور میرے سے بدلہ لے۔ مگر کوئی کھڑا نہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار قسم دے کر کہا مگر کوئی کھڑا نہ ہوا۔ آپ نے تیسری بار پھر فرمایا کہ اے مسلمانوں کے گروہ! مَیں تمہیں اللہ اور تم پر اپنے حق کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر کسی پر میری طرف سے کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو وہ اٹھے اور قیامت کے دن کے بدلہ سے پہلے میرے سے بدلہ لے۔ اس پر لوگوں میں سے ایک بوڑھے شخص کھڑے ہوئے جن کا نام عُکاشہ تھا۔ آپ مسلمانوں میں سے ہوتے ہوئے آگے آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو کھڑے ہو گئے اور عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ اگر آپ نے بار بار قسم نہ دی ہوتی تو میں ہرگز کھڑا نہ ہوتا۔ حضرت عکاشہ کہنے لگے۔ میں آپ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا جس سے واپسی پر میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے قریب آ گئی تو میں اپنی سواری سے اتر کر آپ کے قریب آیا تا کہ آپ کے پاؤں کو بوسہ دوں۔ مگر آپ نے اپنی چھڑی ماری جو میرے پہلو میں لگی۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ چھڑی آپ نے اونٹنی کو ماری تھی یا مجھے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے جلال کی قسم کہ خدا کا رسول جان بوجھ کر تجھے نہیں مار سکتا۔ پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا اے بلال! فاطمہ کی طرف جاؤ۔ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ) اور اس سے وہ چھڑی لے آؤ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ گئے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی! مجھے چھڑی دے دیں۔ اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے بلال! میرے والد اس چھڑی کے ساتھ کیا کریں گے؟ کیا یہ جنگ کے دن کی بجائے حج کا دن نہیں۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے فاطمہ آپ اپنے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی بے خبر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو الوداع کہہ رہے ہیں اور دنیاچھوڑ کر جا رہے ہیں اور اپنا بدلہ دے رہے ہیں۔ اس پر حضرت فاطمہ نے حیرانگی سے پوچھا اے بلال! کس کا دل کرے گا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لے۔ پھر حضرت فاطمہ نے کہا کہ اے بلال !حسن اور حسین سے کہو کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں کہ وہ ان دونوں سے بدلہ لے لے اور وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لینے دیں۔ پس حضرت بلال مسجد آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھڑی پکڑا دی اور آپ نے وہ چھڑی عُکاشہ کو پکڑائی۔ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر نے یہ منظر دیکھا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے اور کہا اے عکاشہ !ہم تمہارے سامنے کھڑے ہیں۔ ہم سے بدلہ لے لو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نہ کہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: اے ابوبکر اور عمر رک جاؤ۔ اللہ تم دونوں کے مقام کو جانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا اے عکاشہ! میں نے اپنی ساری زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری ہے اور میرا دل گوارا نہیں کرتا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارو۔ پس یہ میرا جسم ہے میرے سے بدلہ لے لو اور بیشک مجھے سو بار مارو مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لو۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی بیٹھ جاؤ۔ اللہ تمہاری نیت اور مقام کو جانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت حسن اور حسین کھڑے ہوئے اور کہا اے عکاشہ! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں اور ہم سے بدلہ لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ لینے کے جیسا ہی ہے۔ آپ نے ان دونوں سے فرمایا۔ اے میرے پیارو! بیٹھ جاؤ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا اے عکاشہ مارو۔ حضرت عکاشہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ نے مجھے مارا تھا تو اس وقت میرے پیٹ پر کپڑا نہیں تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر سے کپڑا اٹھایا۔ اس پر مسلمان دیوانہ وار رونے لگ گئے اور کہنے لگے کیا عکاشہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے گا؟ مگر جب حضرت عُکاشہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن کی سفیدی دیکھی تو دیوانہ وار لپک کر آگے بڑھے اور آپ کے بدن کو چُومنے لگے اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کس کا دل گوارا کر سکتا ہے کہ وہ آپ سے بدلہ لے۔ اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا بدلہ لینا ہے یا معاف کرنا ہے۔ اس پر حضرت عُکاشہ نے عرض کی یا رسول اللہ! میں نے معاف کیا اس امید پر کہ اللہ قیامت کے دن مجھے معاف فرما دے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جو جنت میں میرا ساتھی دیکھنا چاہتا ہے وہ اس بوڑھے شخص کو دیکھ لے۔ پس مسلمان اٹھے اور حضرت عُکاشہ کا ماتھا چومنے لگے اور ان کو مبارکباد دینے لگے کہ تو نے بہت بلند مقام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کو پا لیا۔ *📚مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 429 تا 431 کتاب علامات النبوۃ حدیث 14253 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت* *( 📓ھکذافی حلیت الاولیاء )* *🌹ھذاماظہرلی وھوسبحانہ تعالی اعلم واحکم واتم 🌹* ا__________💠⚜💠_________

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جن حضرات کو بیویوں پر غصہ بہت آ تا ہے وہ لازمی پڑھیں

بچوں کی اصلاح کے چند پہلو