خدارا اپنا سسٹم اپڈیٹ کرو

واپس جاکر اپنے ڈاکومنٹس گریڈ 17 سے تصدیق کروا کر پھر آؤ" روزانہ کے معمول میں یہ اوپر کا جملہ اپ نے بھی سناہوگا کوئی بتاسکتا ہے کہ یہ گریڈ 17 آفیسر سے تصدیق پاکستان میں کیوں ہم پہ فرض کی گئی ہے۔؟ جو documents جمع ہورہے ہیں ان پہ پہلے سے ایک ادھ درجن دستخط ہوتے ہیں بورڈ/یونیورسٹی کا نام ؛ ا نام اور ولدیت سمیت تصویر و رولنمبر اور سال بھی اور جنکے پاس جمع کررہے ہوتے ہیں ان کے پاس بھی مختلف گریڈز کے آفیسر بیٹھے ہوتے ہیں تو پھر طلبہ/امیدوار گریڈ 17 سے تصدیق یا/دستخط کیوں کروایا جاتاہے کیا یا طلبہ یا applicants کو محض تنگ کرنا نہیں؟؟؟؟ یا کیا آپ لوگوں کو ڈاکومنٹس چیک کرنا کا صرف یہ واحد معیار ہے کہ 17 سکیل کا بندہ sign کرلے جس کے پاس کوئی مشین نہیں اس کی تصدیق کیلئے۔۔۔ مزے کی بات وہ امتحانی بورڈ یا دفتر جس نے اپکو ڈگری دی ہوتی ہے اسی ڈگری کے فوٹو کاپی انکے پاس لے جاکر افس والے کہینگے گریڈ 17 سے تصدیق کرکے آؤ۔ یا خدایا ھم کیاکریی۔ اکثرامیدوار/ طلبہ مجبوری یا جلدی میں 50,100 روپے میں کسی پنجم پاس فوٹوسٹیٹ والے سے کروانے پہ مجبور ہوجاتےہیں. ہمارے گاؤں کے غریب کا بچہ دستخط کے لئے انکا والد ادھ درجن انڈے لیکر گریڈ 17 سے دستخط کے بعد زندگی بھر اسکا ممنوں رہتاہے۔ اور گریڈ17 کا افسر بڑے سیریس انداز میں ایک لمبا چھوڑا دستخط کرکے اندر ہی اندر اس بیوقوف سسٹم پہ ہنس رہاہوتاہے۔ خدارا اپنا سسٹم اپڈیٹ کرو؛ غلامی کی پرانی روایات کو چھوڑ کر لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرو۔۔۔ وسلام

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جن حضرات کو بیویوں پر غصہ بہت آ تا ہے وہ لازمی پڑھیں

انوکھا انتقام

بچوں کی اصلاح کے چند پہلو