گم شدہ چیز کو اٹھانے کا حکم
*گم شدہ چیز کو اٹھانے کا حکم*
سوال :
گم شدہ چیز کو اٹھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب :
عام شاہراہ پر یا کسی جگہ پر اگر کوئی چیز پڑی ہوئی ملے تو اسے ”لقطہ“ کہتے ہیں، لقطہ اٹھانے کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں مالک تک پہنچانے کی نیت سے بحفاظت اٹھا لینا واجب ہے، اور اگر اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو اس کا اٹھانا جائز ہے، ضروری نہیں۔
اگر کسی نے وہ چیز اٹھالی تو اب اس کاحکم یہ ہے کہ جس جگہ سے اٹھائی ہے وہاں پر ممکن ذرائع سے اس کے مالک کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کی جائے، اس کے بعد بھی اگر مالک نہ ملے اور غالب گمان ہوجائے کہ مالک نے اب اس کو تلاش کرنا چھوڑ دیا ہوگا، تو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز کسی فقیر یا ضرورت مند کو اصل مالک کی طرف سے بطور صدقہ دیدی جائے، اور اگر اٹھانے والاخود فقیر ہو تو خود بھی استعمال کرسکتاہے۔
صدقہ کرنے کے بعد اگر اصل مالک آجائے اور وہ صدقہ پر راضی ہو تو صدقہ درست ہوجائے گا اور وہ ثواب کا مستحق ہوگا اور اگر وہ صدقہ پر راضی نہ ہو اور اپنی چیز کا مطالبہ کرے تو اٹھانے والے پر اپنے مال میں سے دینا لازم ہوگا، تاہم ایسی صورت میں اٹھانے والے کو صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں