ضدی خواتین ناکام ہیں
*ضدی خواتین نا کام ہیں۔*
ضدی عورتیں اپنی شادیوں میں ،بلکہ رشتہ داروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ناکام ہوجاتی ہیں۔
ایسی خواتین جو لوگوں کے جذبات کا خیال نہیں رکھتیں، اور معاملات میں لچک نہیں رکھتیں ، ان کی شادیاں مکمل ناکام ہوجا تی ہیں ۔ بلکہ
ان کی زندگیاں بہی ناکام ہو جاتی ہیں ۔ کیوں؟
1- وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی انا کی جنگ لڑتی رہتیں ہیں ، شوہر پر قابو پانے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ اس جنگ میں ہمیشہ وہ ہار جاتی ہیں،وہ کبھی یہ جنگ نہیں جیت سکتیں ۔ کیونکہ مرد ضد کرنے والی بیوی اور ضدی بہن کے سامنے اور زیادہ ضدی ہوجاتے ہیں ، اور وہ ایک نرم اور فرمانبردار عورت کے سامنے بہت زیادہ نرم ہو جاتے ہیں۔
2- ایک ضدی عورت سوچتی ہے کہ وہ اپنی رائے پر اصرار کر کے جیت جائیگی ، اور وہ کسی بھی مخالفت کا سامنا کرلیگی ۔ جبکہ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ یہ جنگ وہ اپنی ضد اور زبان سے جیت بہی جائے تو وہ اس دل سے محروم ہوجائیگی جو اسے پیار کرتا تھا اور اس کی فکر میں لگا رہتا تھا۔
3- تمام ثقافتوں اور حکمتوں میں ایک آسان ، نرم ، ہمدرد ، صابرہ اور در گذر کرنے والی عورت کی تعریف کی گئی ہے ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے ایک ایسی عورت کی تعریف کی ہے جو اپنے شوہر کا احترام کرتی ہے اور نرمی اور حکمت کے ساتھ بولتی ہے ، اور اس کے نتیجے میں وہ اس سے ہمیشہ محبت کرے گا اور اسے کبھی
دور نہیں جائیگا۔
4- وہ عورت جو اپنے شوہر کی بات مانے لیتی ہے اور طوفان کے گذرنے تک صبر کرلیتی ہے۔ وہ عقلمند عورت ہے ، اپنے کنبہ کو بکہرنے سے بچا لیتی ہے ۔ اور وہ عورت جو خشک چھڑی کی طرح بے لچک کھڑی ہوتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے ، جسکا دوبارہ جڑنا ممکن نہیں ۔
5- سمجھوتہ نہ کرنے والی عورت اپنی رائے سے چمٹی رہتی ہے۔ وہ مسلسل اپنی فتح کا وہم برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے: اس زعم میں رہتی ہے کہ میں جیت گئی اور آپ ہار گئے ، میں ٹھیک ہوں اور آپ غلط ہیں۔ ایسی عورت دوسروں کو تباہ کرنے سے پہلے خود کو تباہ کر دیتی ہے۔ اور وہ دنیا اور آخرت میں غمزدہ اور مایوسی کی زندگی بسر کرتی ہے چونکہ اسے پیار اور محبت چاہئے جو ہارا ہوا مرد نہیں دے سکتا۔اسکی زبانی جیت حقیقت میں اسکی زندگی کی ہار تھی-

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں